ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کی اپیل مسترد، احتجاج میں شدت، کل بھوک ہڑتال

مودی کی اپیل مسترد، احتجاج میں شدت، کل بھوک ہڑتال

Sun, 13 Dec 2020 13:07:58    S.O. News Service

نئی دہلی،13؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  وزیراعظم  نریندر مودی کی اپیل کو مسترد کرتےہوئے کسانوں نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا  اعلان کیا ہے جس کے تحت کسان اتوار کو اپنے ٹریکٹر لے کر جے پور دہلی ہائی وے کو جام کردیں گے۔اس کے علاوہ پیر کو ملک گیر احتجاج  کے موقع پر کسان یونین کے سربراہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ کسانوں نے سنیچر کو واضح کیا کہ وہ مزید بات چیت کیلئے تیار ہیں مگر تینوں  متنازع قوانین کی منسوخی کے اپنے بنیادی مطالبے سے ہٹیں گے نہیں بلکہ اس مطالبے کی منظوری کے بعد ہی  اورکوئی بات ہوسکے گی۔ 

کسانوں کووزیراعظم کی یقین دہانی:  وزیراعظم نریندر مودی جنہوں نے اب تک کسانوں  کے مطالبے پر براہ راست کچھ کہنے سے گریز کیا ہے،  نے سنیچر کوصنعتکاروں کی تنظیم  ایف آئی سی سی آئی(فکی) سے خطاب کرتےہوئے کسانوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت جو کچھ بھی کررہی ہے وہ کسانوں کیلئے کررہی ہے۔ان کےمطابق حکومت کسانوں کو متبادل مارکیٹ فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ وزیراعظم نے کسانوں کے احتجاج کا حوالہ دیئے بغیر کہاہے کہ ’’ اصلاحات سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو راہ ملے گی جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی۔‘‘انہوںنے کہا کہ ’’حکومت کی تمام اصلاحات کا مقصد یہ ہے کہ کسان خوش حال ہوجائیں۔‘‘ مودی کے مطابق ’’نئے قوانین کےبعد کسانوں کو نئے بازار اور نئے مواقع ملیں  گے۔انہیں تکنالوجی کی مدد ملے گی اور ملک کا کولڈ اسٹوریج انفرااسٹرکچر بھی ماڈرن ہوجائےگا۔‘‘

 شاہجہاں پور سے دہلی چلو مارچ:  وزیراعظم کی مذکورہ یقین دہانی کے بعد جو کسانوں سے  نہیں بلکہ صنعتکاروں سے خطاب کرتےہوئے کرائی گئی ہے،    کسان تنظیموں  نے دہلی کی سنگھو سرحد پر ایک پریس کانفرنس کی اور اتوار کو دہلی جے پور ہائی وے کو جام کردینے کا اعلان کیا۔ کسان  لیڈر کنول پریت سنگھ پنّو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہزاروں   کسان راجستھان کے شاہجہاں پور سے سے اپنے ٹریکٹرس پر صبح ساڑھے 11؍ بجے ’دہلی چلو‘ مارچ شروع کریں گے۔  انہوں  نے احتجاج میں شدت پیدا کرنےسے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اب ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں بھی احتجاج کا حصہ ہوںگی جن کی رہائش کا انتظام کیا جارہاہے۔ 

احتجاج میں شدت، مزید کسانوں کی دہلی آمد:  کنول پریت سنگھ  نے بتایا کہ ملک بھر سے مزید ہزاروں  کسان دہلی پہنچ رہے ہیں۔انہوں الزام لگایا کہ پولیس راستے میں  رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے مگر کسان ہرحال میں احتجاج میں  شامل ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر حکومت بات چیت چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں مگر ہماری بنیادی مطالبہ قوانین کی منسوخی ہے۔ ہم اس کے بعد ہی اپنےدوسرے مطالبات کی طرف بڑھیں گے۔‘‘

کل کسان لیڈروں کی بھوک ہڑتال:  انہوں نے بتایا کہ پیر۱۴؍ دسمبر کوملک گیر احتجاج  کے موقع پر دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسان یونین کےلیڈر بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ کنول پریت   نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں  کے احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے مگر کسان ایسا نہیں  ہونے دیں گے۔‘‘

ہریانہ میں کئی مقامات پر ٹول پلازہ پر کسانوں کا قبضہ: ہریانہ میں کسانوں نےسنیچر کو کئی مقامات پر ٹول پلازہ پر قبضہ کرلیا   اور وہاں موجود اہلکاروں کو ٹول نہیں وصول کرنے دیا۔  یاد رہے کہ کسانوں نے پہلے ہی اعلان کیاتھا کہ وہ  بطور احتجاج  ۱۲؍ دسمبر کو ٹول پلازہ پر قبضہ کریںگے۔ سنیچر کو دیگر ٹول پلازہ کے علاوہ کسانوں  نےامبالہ -حصا ٹول پلازہ نیز کرنال -جند  ٹول پلازہ پر قبضہ کیا اور گاڑیوں کو وہاں سے مفت گزرنے دیا۔ 

حکومت حامی کسان مزید سرگرم   احتجاج کی  دھمکی:  کسانوں کے تاریخی احتجاج  کے دوران حکومت  اوراس کےمتنازع قوانین کی حمایت میں سامنے آنے والےمٹھی بھر کسان بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔ ہریانہ سے تعلق رکھنےوالے مذکورہ کسانوں کے ایک وفد نے سنیچر کو وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سےملاقات کرکے مذکورہ قوانین کی تائید کی اوردھمکی دی کہ اگرانہیں منسوخ کیاگیا تواس کے خلاف احتجاج کیا جائےگا۔ اس وفد کی قیادت بھارتیہ کسان یونین کی ہریانہ اکائی کے صدرگونی پرکاش نے کی ۔ 


Share: